تہران/28نومبر (آئی این ایس انڈیا) ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ملک بھر میں جاری عوامی احتجاج کے دوران تقریبا 731 بینک اور حکومت کے 140 دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ ان کے علاوہ سیکورٹی فورسز کے زیر استعمال 50 سے زیادہ مراکز پر حملہ کیا گیا جب کہ 70 کے قریب فیول اسٹیشنوں کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ایرانی چینل ’العالم‘ نے فضلی کے حوالے سے بتایا کہ حسن روحانی نے بعض مرتبہ ایک رات میں صبح ہونے تک پانچ بار مجھ سے رابطہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وسیع پیمانے پر ہنگامہ آرائی اور بلوؤں کے بعد ہم انٹرنیٹ کی سروس منقطع کر دینے پر مجبور ہوئے تا کہ ملک کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ایرانی وزیر داخلہ کے مطابق پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد 15 نومبر سے ملک بھر میں شروع ہونے والے عوامی احتجاج میں 2 لاکھ افراد نے شرکت کی۔اس سے قبل انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ایران میں احتجاج کے دوران کم از کم 143 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتی ہے۔ سال 2009 میں ’سبز انقلابی تحریک‘ کے بعد یہ ایرانی حکومت کو درپیش سنگین ترین صورت حال ہے۔ایران نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اور مظاہروں کے دوران سیکورٹی اہل کاروں سمیت متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 1 ہزار سے زیادہ افراد گرفتار ہوئے۔ایران میں انسانی حقوق کے مرکز نے جس کا صدر دفتر نیویارک میں ہے بتایا کہ گرفتار شدگان کی تعداد شاید 4 ہزار کے قریب ہے جب کہ اپوزیشن تنظیم مجاہدین خلق کا دعوی ہے کہ ایرانی حکام ابھی تک 7 ہزار مظاہرین کو گرفتار کر چکے ہیں۔مظاہرین نے ملک کی سینئر قیادت اور اعلی رہ نماؤں کی سبک دوشی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایرانی حکومت نے احتجاج کے نام پر بدمعاشی اور کی ذمے داری بیرون ملک جلا وطن ایرانیوں اور واشنگٹن حکومت پر عائد کی ہے۔